تخت کی رات
معنی
١ - سہاگ رات، نکاح و رخصتی کے بعد دولھا دولھن کے خلوت میں یکجا ہونے کی رات شب زفاف، شب عروسی۔ 'چونکہ آج تخت کی رات - ہو گی اس لیے دولھن کو بنایا سنوارا گیا ہے۔" ( ١٩٠٥ء، رسوم دہلی، سید احمد، ٨٤ )
اشتقاق
فارسی زبان کے لفظ 'تَخْت' کے ساتھ 'کی' بطور حرف اضافت اور رات بطور مضاف لگایا گیا ہے اردو میں سب سے پہلے ١٧٨٠ء کو سودا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سہاگ رات، نکاح و رخصتی کے بعد دولھا دولھن کے خلوت میں یکجا ہونے کی رات شب زفاف، شب عروسی۔ 'چونکہ آج تخت کی رات - ہو گی اس لیے دولھن کو بنایا سنوارا گیا ہے۔" ( ١٩٠٥ء، رسوم دہلی، سید احمد، ٨٤ )